Connect with:

"خبر کی دوڑ میں سب سے آگے"

Translate:
Monday / August 21, 2017 3:23 PM
HomeInternationalکلبھوشن کومہلت مل گئی؛عالمی عدالت انصاف نےبھارتی واویلا سن لیا

کلبھوشن کومہلت مل گئی؛عالمی عدالت انصاف نےبھارتی واویلا سن لیا

اور ہند و پاک تعلقات پر اس کے اثرات

!کلبھوشن کومہلت مل گئی؛عالمی عدالت انصاف نےبھارتی واویلا سن لیا

ہیگ:عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی پھانسی رکوانے کیلئے بھارتی درخواست پر فیصلہ سنادیا ۔جج رونی ابراہم کے مطابق عالمی عدالت کے فیصلے تک کلبھوشن کو پھانسی نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے پاکستان کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے حکم امتناع جاری کردیا۔ رونی ابراہم نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کلبھوشن کیس کی سماعت کا اختیار رکھتی ہے۔

کلبھوشن یادیو کی پھانسی رکوانے کی بھارتی درخواست عالمی عدالت انصاف میں قبول کرلی گئی۔ جج رونی ابراہم نے فیصلہ سنایا کہ دونوں ملکوں کےدرمیان ویاناکنونشن اورقونصلررسائی کاتنازع ہے۔ ویاناکنونشن کاآرٹیکل دہشتگردی میں ملوث شخص پرلاگونہیں ہوتا۔ عالمی عدالت انصاف کلبھوشن کیس سننے کا اختیار رکھتی ہے۔ویاناکنونشن کےتحت پاکستان کوقونصلررسائی دیناچاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کیس کوجلدسنناہوگا۔

عالمی عدالت انصاف کے جج رونی ابراہم نے فیصلے کے مندرجات سناتے ہوئےکہاکہ بھارت ہمیں کیس کےمیرٹ پر مطمئن نہیں کرپایا۔23 جنوری2017کوپاکستان نےبھارت سےانکوائری کیلئےکہا۔ بھارت نے پاکستان سے قونصلر رسائی مانگی، پاکستان نے بتا دیا تھا کہ قونصلر رسائی بھارتی رسپانس سے منسلک ہے۔ پاکستانی قانون کے مطابق کلبھوشن کے پاس اپیل کیلئے 40 دن تھے۔ کلبھوشن کو پاکستانی آرمی ایکٹ کے تحت سزا سنائی گئی۔کلبھوشن کی جانب سے کوئی اپیل دائر نہیں کی گئی۔

پاکستان کے مطابق کلبھوشن کامعاملہ بھارتی ہائی کمیشن کےساتھ اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کومطلع کرنے میں ناکامی ویانا کنونشن کے دائرے میں آتی ہے۔ جاسوسی میں گرفتار افراد کو ویانا کنونشن سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ معاملہ عالمی عدالت انصاف کے دائرہ کارمیں آتا ہے۔

India spy

ویاناکنونشن کےمطابق جاسوسوں کوسزا پرعالمی عدالت سماعت نہیں کرسکتی اس لیے بھارت کی جانب سے کلبھوشن کی پھانسی رکوانے کی درخواست پر پاکستان نے دائرہ اختیارچیلنج کیاتھا۔

بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2016 کو گرفتار کیا گیا۔ کلبھوشن کی گرفتاری بلوچستان میں انٹیلی جنس آپریشن کے دوران عمل میں آئی تھی۔ بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر اور خفیہ ایجنسی ’’را ‘‘کا یہ ایجنٹ پاکستان میں حسین مبارک پٹیل کے نام سے سرگرمیاں کر رہا تھا جسے کراچی اور بلوچستان میں تخریب کاری کا ٹاسک دیا گیا تھا۔

ICJ

گرفتاری کے بعد کلبھوشن نے پاکستان میں دہشت گردی اورانتشارپھیلانے کا اعتراف کیا جس کے بعد آرمی ایکٹ کے سیکشن 59 اور سیکرٹ ایکٹ کی شق 3 کے تحت کلبھو شن کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔ کلبھوشن کا فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کیا گیا اور گرفتاری کے ایک سال ایک ماہ اور تین دن بعد اسے سزائے موت سنائی گئی۔

آرمی چیف نے را ایجنٹ کی سزائے موت کی توثیق کی۔ کلبھوشن کو پاکستان کی سالمیت،جاسوسی اور انتشار پھیلانے کے جرم میں سزا ئے موت سنائی گئی کیونکہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل میں دوران سماعت کلبھوشن پرتمام الزامات درست ثابت ہوئے۔

ICJ

کلبھوشن کی سزائے موت کے خلاف بھارت نے 10 مئی 2017 کو عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا اور کلبھوشن کی سزائے موت پر عملدرآمد رکوانے کی درخواست کی۔ 14 مئی کو پاکستان نے عالمی عدالت انصاف میں بھارتی درخواست کو چیلنج کر دیا۔ 15 مئی کو عالمی عدالت انصاف نے سماعت کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جسے آج سنایا گیا ۔

پندرہ مئی کوپاکستان نے بھارتی درخواست کی دھجیاں اڑاتے ہوئے عالمی عدالت میں واضح کردیا تھا کہ ویانا کنونش دہشت گردوں اور جاسوسوں کے لیے نہیں ہے اس لیے یہ عدالت کلبھوشن کا کیس نہیں سن سکتی۔ جبکہ بھارت کے وکیل کا سارازور اس بات پر ہی رہا کہ عدالت کسی طرح کلبھوشن کی سزا رکوادے۔

Share

No comments

Sorry, the comment form is closed at this time.