Home / Pakistan / Sindh / کراچی میں 92 فیصد پانی پینے کے قابل نہ ہونے کا انکشاف، پانی میں انسانی فضلہ شامل

کراچی میں 92 فیصد پانی پینے کے قابل نہ ہونے کا انکشاف، پانی میں انسانی فضلہ شامل

کراچی:سندھ ہائی کورٹ میں واٹر کمیشن کیس کی سماعت کے دوران کراچی میں 92 فیصد پانی پینے کے قابل نہ ہونے کا انکشاف ہوا۔ پینے کے پانی میں انسانی فضلہ شامل ہے۔

سندھ ہائی کورٹ میں واٹرکمیشن کیس کی سماعت کے دوران سینئرریسرچر ڈاکٹر غلام مرتضیٰ نے انکشاف کیا کہ کراچی میں 92فیصد پانی پینے کے قابل نہیں اور پانی میں 34 فیصد پانی میں انسانی فضلہ شامل ہے۔
جسٹس اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں قائم کمیشن نے استفسارکیا کہ ہائیڈرنٹس سے متعلق قانون سازی کا کیا ہوا ؟جس پرایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ڈرافٹ محکمہ قانون کے پاس ہے۔ کمیشن نے کہا کہ وہاں تو معاملہ برسوں پڑا رہتا ہے، کمیشن نے محکمہ قانون سے وضاحت طلب کرلی۔ کمیشن نے یہ بھی کہا کہ واٹرٹینکرز سے ملنے والا پانی بھی صاف اور معیاری نہیں ہوتا۔اب تک مسائل کا مستقل حل نہیں بتایا جارہا، لوگوں کو صاف پانی کیسے ملے گا ؟۔
سیکریٹری آب پاشی نے کہا کہ صاف پانی کی فراہمی کے لیےکئی منصوبے بنائے گئے ۔جسٹس اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیے کہ بہت ہوگیا، لوگوں کو صاف پانی دیں ۔
کمیشن نے سیکریٹری محکمہ آب پاشی سے استفسار کیا کہ یہ بتائیں شہریوں کو صاف پانی کب ملے گا؟۔ منصوبے کب مکمل ہوں گے۔
کمیشن کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کے زیرانتظام تین اسپتالوں میں اڑتیس فیصد پانی قابل استعمال ہے، ان اسپتالوں میں سے ایک کرن اسپتال میں تو واٹرکولرپرہی پان تھوکا جارہا ہے۔
واٹر کمیشن نے جناح اسپتال اٹامک انرجی، کرن اسپتال اورنمرہ اسپتال کی انتظامیہ کو آئندہ سماعت پرطلب کرلیا۔

Check Also

سندھ میں آٹھ سے دس محرم الحرام کو ڈبل سواری پر پابندی عائد

سندھ میں آٹھ سے دس محرم الحرام کو ڈبل سواری پر پابندی عائد

کراچی : حکومت سندھ کی جانب سے جاری اعلان کے مطابق سندھ میں آٹھ سے …

Translate »