Connect with:

"خبر کی دوڑ میں سب سے آگے"

Translate:
Sunday / July 23, 2017 3:40 PM
HomeInternationalپاکستان کی فوجی امداد روکنے کیلئے امریکا کا نیا بل تیار

پاکستان کی فوجی امداد روکنے کیلئے امریکا کا نیا بل تیار

پاکستان کی فوجی امداد روکنے کیلئے امریکا کا نیا بل تیار

واشنگٹن : امریکی ایوان بالا نے پاکستان کو دی جانے والی فوجی امداد پر مزید شرائط عائد کرنے سے متعلق نیا بل تیار کرلیا، دفاعی پالیسی بل اب سینٹ سے منظورہوگا، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس کی حتمی منظوری دیں گےاور یہ قانون کی شکل اختیار کر جائے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان میں پاکستان کو ملنے والی فوجی امداد کو روکنے کیلئے نیا بل تیار کیا گیا ہے، بل کی تیاریاں میں پاکستان مخالف جذبات اور بھارت کیلئے ہمدردی رکھنے والے سینیٹرز کی اکثریت شامل ہے۔

بل کے تحت بھارت سے دفاعی تعاون بڑھایا جائے گا، جب کہ پاکستان کی چالیس کروڑ ڈالر امداد سے پہلے امریکی وزیر دفاع کو پاکستان سے متعلق سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا کہ پاکستان کسی دہشت گرد کی مالی یاعسکری مدد نہیں کررہا اور یہ کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف آپریشن اور عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت روکنے کیلئے افغان حکومت سے تعاون کررہا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امریکا افغانستان اور پاکستان کے حوالے سے جلد نئی پالیسی کا اعلان بھی جلد کردے گا۔ امریکی ایوان نمائندگان نے بھارت سے دفاعی تعاون بڑھانے اور پاکستان کی امداد پر سخت شرائط عائد کرنے کا بل منظور کرلیا۔

امریکی امداد کے 696اراب ڈالر سے زائد کے اس دفاعی پالیسی بل کے حق میں 344 اور مخالفت میں 81 ووٹ ڈالے گئے، بل پرعمل اسی سال یکم اکتوبر سے ہوگا۔

بل میں لگائی گئی نئی شرائط کے تحت پاکستان کودفاعی امداد حاصل کرنے کیلئے انسداد دہشت گردی آپریشنز کے لیے واضح اقدامات کرنے ہوں گے، سرحد پار حملے روکنے کے ساتھ ساتھ بارودی سرنگوں سے نمٹنے کے لیے مناسب کارروائی کرنا ہوگی ۔

بل کے تحت یکم اکتوبر 2017ءسے31 دسمبر 2018ءتک پاکستان کیلئے مخصوص 40 کروڑ ڈالر امداد اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک امریکی وزیر دفاع اس بات کی تصدیق نہ کردیں کہ پاکستان شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف مسلسل فوجی آپریشن کر رہا ہے اور پاک افغان سرحد پر عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کو روکنے کیلئے افغان حکومت سے مکمل تعاون کر رہا ہے۔

دفاعی پالیسی بل اب سینٹ سے منظور ہوگا، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس کی حتمی منظوری دیں گے اوریہ قانون کی شکل اختیار کر جائے گا۔

ادھر امریکی قومی سلامتی کے مشیر جنرل ایچ آر میک ماسٹر کا کہنا ہے کہ امریکا ایسی پالیسی پر کام کررہا ہے جو کسی ایک ملک کیلئے نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کیلئے ہوگی لیکن اس کا اطلاق خصوصی طور پر پاکستان اور افغانستان دونوں پر کیا جاسکے گا، پالیسی کا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔

Share

No comments

Sorry, the comment form is closed at this time.