Connect with:

"خبر کی دوڑ میں سب سے آگے"

Translate:
Wednesday / August 16, 2017 10:35 PM
Homenewsپاناما کیس: وزیراعظم نوازشریف کو نا اہل قراردے دیا

پاناما کیس: وزیراعظم نوازشریف کو نا اہل قراردے دیا

پاناما کیس: وزیراعظم نوازشریف کو نا اہل قراردے دیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ رکنی بنچ نے پاناما لیکس کے تاریخ ساز مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دے دیا ہے‘ فیصلہ جسٹس اعجاز افضل نے پڑھ کرسنایا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں لارجر بنچ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پاناما کیس میں وزیر اعظم اوران کے خاندان کے خلاف دائر کردہ مقدمے کا فیصلہ کمرۂ عدالت نمبر1 میں سنایا گیا‘ فیصلے میں متفقہ طور پروزیراعظم نواز شریف کو نااہل قراردے دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ اورجسٹس اعجاز افضل پہلے ہی وزیراعظم کو صادق اور امین کی صف سے باہر کرتے ہوئے نا اہل قرار دے چکے تھے۔
جسٹس اعجاز افضل نے فیصلہ سناتے ہوئےکہا کہ ہے دوججز نے 20 اپریل کو نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا‘ حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نیب دو ہفتوں کے اندر وزیراعظم نواز شریف‘ کیپٹن صفدر‘ اسحاق ڈار اور مریم نواز کے خلاف ریفرنس دائر کرے۔
بنچ میں جسٹس آصف سعیدکھوسہ‘ جسٹس گلزاراحمد‘ جسٹس اعجازالاحسن‘ جسٹس اعجازافضل اور جسٹس شیخ عظمت سعید شامل ہیں۔
سپریم کورٹ بنچ نے جے آئی ٹی کی رپورٹ پر سماعت مکمل کرتے ہوئے گزشتہ جمعے یعنی 21 جولائی کو پاناما کیس کی سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔
پانامہ لیکس کے تہلکہ خیز انکشافات کو ایک سال اور کچھ دن کا عرصہ گزر چکا ہے،4 اپریل 2016ء کو پانامہ لیکس میں دنیا کے 12 سربراہان مملکت کے ساتھ ساتھ 143 سیاست دانوں اور نامور شخصیات کا نام سامنے آئے جنہوں نے ٹیکسوں سے بچنے اور کالے دھن کو بیرونِ ملک قائم بے نام کمپنیوں میں منتقل کیا۔
انکشافات میں پاکستانی سیاست دانوں کی بھی بیرونی ملک آف شور کمپنیوں اور فلیٹس کا انکشاف ہوا تھا جن میں وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کا خاندان بھی شامل ہے۔
وزیر اعظم میاں نواز شریف کے بیٹوں حسین نواز اور حسن نواز کے علاوہ بیٹی مریم صفدرکا نام بھی پاناما لیکس کے متاثرین شامل تھا۔
قوم سے خطاب اور قومی اسمبلی میں وزیر اعظم نے اپنی جائیدادوں کی وضاحت پیش کی تاہم معاملہ ختم نہ ہوا اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی جانب سے وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کے لیے علیحدہ علیحدہ تین درخواستیں دائر کی گئیں جنہیں سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا۔
کیس کی سماعت کے لیے چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ تشکیل دیا گیا تاہم سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ کی وجہ سے بینچ ختم ہوگیا اور چیف جسٹس نے تمام سماعتوں کی کارروائی بند کرتے ہوئے نئے چیف جسٹس کے لیے مقدمہ چھوڑ دیا۔
نئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ بنے جنہوں نے کیس کی از سر نو سماعت کی اور رواں سال 20 اپریل کو جے آئی ٹی کی تشکیل کا حکم دیا جس نے ساٹھ روز میں اپنی تحقیقات مکمل کرکے اپنی رپورٹ جمع کرائی جس کی بنیاد پر آج پاناما کے تاریخ ساز کیس کا فیصلہ سنایا ہے۔

 

Share

No comments

Sorry, the comment form is closed at this time.