Home / news / پاناما کیس: سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی رپورٹ کا والیم 10 کھول دیا

پاناما کیس: سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی رپورٹ کا والیم 10 کھول دیا

سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت جاری ہے جس دوران عدالت نے جے آئی ٹی رپورٹ کی جلد نمبر 10 کھول دی۔

پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ جمع کرانے کے بعد عدالت عظمیٰ کا 3 رکنی بینچ آج کیس کی مسلسل پانچویں سماعت کررہا ہے جس میں وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ اپنے دلائل مکمل کرلیے ہیں جس کے بعد وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وکیل ڈاکٹر طارق حسن ایک بار پھر دلائل دے رہے ہیں۔
جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل بینچ کیس کی سماعت کررہا ہے۔
سماعت کے آغاز پر سلمان اکرم راجہ نے دلائل کی ابتداء میں کہا کہ کل کی سماعت میں نیلسن اور نیسکول ٹرسٹ ڈیڈ پر بات ہوئی تھی، عدالت نے کہا تھا کہ بادی النظر میں یہ جعلسازی کا کیس ہے، میں نے کل کہا تھا اس کی وضاحت ہوگی۔ اس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ یہ تو ہم بھی دیکھ سکتے ہیں کہ دستخط کیسے مختلف ہیں۔
سلمان اکرم نے دلائل میں کہا کہ ماہرین نے غلطی والی دستاویزات کا جائزہ لیا، کسی بھی صورت میں جعلی دستاویز دینے کی نیت نہیں تھی، اکرم شیخ نے کل کہا ہے کہ غلطی سے یہ صفحات لگ گئے تھے، یہ صرف ایک کلریکل غلطی تھی جو اکرم شیخ کے چیمبر سے ہوئی۔
جسٹس عظمت نے کہا کہ مسئلہ صرف فونٹ کا رہ گیا ہے، سلمان اکرم نے کہا کہ دوسرا معاملہ چھٹی کے روز نوٹری تصدیق کا ہے، لندن میں یہ معمول کا کام ہے چھٹی کے روز نوٹری تصدیق ہو جاتی ہے، سوشل میڈیا پر کل عوام نے مجھے بہت سی لیگل فرمز کے بروشرز بھیجے۔
دورن سماعت عدالت نے جے آئی ٹی رپورٹ کا والیم 2 منگوایا۔
جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ والیم نمبر 10کوبھی اوپن کریں گے، ہرچیز کو اوپن کریں گے۔ انہوں نے سلمان اکرم راجہ سے کہا آپ کی بات نوٹ کرلی کہ ہفتے کے روز بھی سالیسٹر دستیاب ہوتے ہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ حسین نواز نے یہ کبھی نہیں کہا ان کا سالیسٹر چھٹی کے روز دستیاب ہوتا ہے، جس لا ءفرم کی دستاویزات آپ پیش کر رہےہیں وہ تصدیق شدہ نہیں۔
عدالت نے سماعت کے آغاز کے کچھ دیر بعد ہی جے آئی ٹی رپورٹ کی جلد نمبر 10 کھول دی جسے کمرہ عدالت میں سب کے سامنے کھولا گیا۔
اس موقع پر ریمارکس میں جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ دسویں جلدمیں جے آئی ٹی خطوط کی تفصیل ہوگی۔ انہوں نے وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ صاحب آپ کے کہنے پر اس کو کھول کر دکھا رہے ہیں جسے سب سے پہلے آپ کو ہی دکھایا جائے گا، اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت کا استحقاق ہے وہ کسی کو بھی دکھائے۔
عدالت نے دسویں والیم کا خود جائزہ لیاور وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث کو دسویں جلد کی مخصوص دستاویز پڑھنے کو دیں۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ابھی دسویں جلد کسی کو نہیں دکھائیں گے، انہوں نے کہا کہ عدالت سے زیادہ خواجہ صاحب کا مطمئن ہونا ضروری ہے۔
دوران سماعت بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ کیا اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ریفرنس نیب کو بھجوا دیا جائے جس پر سلمان اکرم نے مؤقف اپنایا میرا جواب ہے کہ کیس مزید تحقیقات کا ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آج سلمان اکرم راجا نے اچھی تیاری کی۔
جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ وزیر اعظم نے پُر اسرار ثبوت اسپیکرقومی اسمبلی کو دیئے ہمیں کیوں نہیں دےرہے؟ وزیر اعظم نے ’’ہمارےاثاثے‘‘میں خود کو بھی شامل کیا تھا؟
جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ کل پوچھا تھا کیا قطری شواہد دینے کے لیے تیار ہے؟ سلمان اکرم نے دلائل میں کہا کہ قطری کی جانب سے کچھ نہیں کہہ سکتا، قطری کو وڈیو لنک کی پیشکش نہیں کی گئی، اس پر جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ شواہد کو تسلیم کرنا نہ کرنا ٹرائل کورٹ کا کام ہے۔
سلمان اکرم نے اپنے دلائل میں مؤقف اپنایا کہ بچے اپنے کاروبار کے خود ذمے دار ہیں، بچوں کو کاروبار کے لیے وسائل ان کے دادا نے دیئے، سال 2004 تک حسن اور حسین کو سرمایہ ان کے دادا دیتے رہے، اگر بیٹا اثاثے ثابت نہ کر سکے تو ذمےداری والدین پر نہیں آسکتی۔
جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ عوامی عہدہ رکھنے والوں کی آمدن اثاثوں کےمطابق نہ ہو توکیا ہوگا؟ سوال یہ ہے کہ پبلک آفس ہولڈر نےاسمبلی میں کہا یہ ہیں وہ ذرائع جن سےفلیٹس خریدے، اس کے بعد وزیراعظم نے کچھ مشکوک دستاویزات اسپیکر کو دیں، ہم ایک سال سے ان دستاویزات کا انتظار کر رہے ہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ خطاب میں کہا تھا بچوں کے کاروبار کے تمام ثبوت موجود ہیں، عوامی عہدہ رکھنے والے نے قومی اسمبلی اور قوم سے خطاب کیا تھا۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ یہاں معاملہ عوامی عہدہ رکھنے والے کا ہے، وہ اپنے عہدے کے باعث جوابدہ ہیں، عدالت اگر اس نتیجے پر پہنچی توعوامی نمائندگی ایکٹ کے سیکشن 12 دو کا اطلاق ہوگا۔
جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ مریم بینیفیشل مالک ہیں یہ کیپٹن صفدر نےگوشواروں میں ظاہرنہیں کیا اس پر سلمان اکرم نے مؤقف اپنایا کہ اس سارے معاملے کے لیے قانونی عمل درکار ہوگا، بی وی آئی کے خطوط حتمی ثبوت نہیں، عدالت مطمئن ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ جے آئی ٹی کے 23 جون کے خط کے جواب میں کل والا خط ملا۔
وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے اپنے دلائل مکمل کرلیے جس کے بعد جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آج آپ نے اچھے دلائل دیئے۔
سلمان اکرم کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ایک بار پھر وزیر خزانہ اسحاق ڈار کےوکیل طارق حسن نے دلائل شروع کیے جب کہ اس موقع پر اسحاق ڈار کا 34 سال کا ٹیکس رکارڈ کمرہ عدالت میں پہنچایا گیا۔
طارق حسن نے اسحاق ڈار کا 34 سالہ ریکارڈ عدالت میں پیش کیا جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ یہ بڑا بڑا ’’ٹیکس رکارڈ‘‘ہمارے لیے رکھا ہے؟ یہ سارادن ٹی وی کی زینت بنا رہے گا۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے سوچ رہا ہوں کہ یہ سیکیورٹی والوں سے کلیئر کیسے ہوگیا؟
گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو میں شیخ رشید نے کہا تھا کہ سلمان اکرم راجہ نے کیس کا بیڑا غرق کردیا ہے جس پر آج شیخ رشید اور سلمان اکرم کے درمیان سماعت سے قبل مکالمہ ہوا جس میں سلمان اکرم نے کہا شیخ صاحب آپ کا کل کا بیان نظر سے گزرا، شیخ رشید نے جواب دیا کہ میں نے صرف کیس پر بات کی ہے اور آپ جانتے ہیں میں آپ کی کتنی عزت کرتا ہوں۔
گزشتہ سماعت کے موقع پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے تھے کہ ہمارے سامنے کیس بادی النظر میں جعلی دستاویزات دینے کا ہے لیکن فی الحال بادی النظر سے آگے نہیں جانا چاہتے۔
سپریم کورٹ میں آج بھی کیس کی سماعت کے موقع پر فریقین، مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور پیپلزپارٹی کے رہنما سمیت دیگر اپوزیشن اراکین کمرہ عدالت میں موجود ہیں جب کہ اس موقع پر عدالت عظمیٰ کے اطراف سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
جے آئی ٹی رپورٹ جمع ہونے کے بعد 17 جولائی سے جاری کیس کی سماعت میں اب تک تحریک انصاف، جماعت اسلامی کے وکیل، شیخ رشید، وزیراعظم کے وکیل، مریم، حسین اور حسن نواز کے وکیل سمیت اسحاق ڈار کے وکیل اپنے دلائل مکمل کرچکے ہیں۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر 20 اپریل کو شریف خاندان کی منی ٹریل کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی جسے 60 روز میں اپنی تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیا گیا۔
مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے گزشتہ ہفتے 10 جولائی کو دس جلدوں پر مشتمل اپنی رپورٹ عدالت عظمیٰ میں جمع کروائی جس کے مطابق شریف خاندان کے معلوم ذرائع آمدن اور طرز زندگی میں تضاد ہے۔

Check Also

یوم عاشور پر شہر قائد میں موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد

یوم عاشور پر شہر قائد میں موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد

یوم عاشور کے سلسلے میں شہر قائد میں موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد …

Translate »