Connect with:

"خبر کی دوڑ میں سب سے آگے"

Translate:
Wednesday / August 16, 2017 10:22 PM
HomePakistanفیصلہ وزیراعظم کے حق میں نہیں آنے والا، جھوٹے بیانات اور کاغذات پرجیل جاسکتے ہیں، پی پی رہنما

فیصلہ وزیراعظم کے حق میں نہیں آنے والا، جھوٹے بیانات اور کاغذات پرجیل جاسکتے ہیں، پی پی رہنما

فیصلہ وزیراعظم کے حق میں نہیں آنے والا، جھوٹے بیانات اور کاغذات پرجیل جاسکتے ہیں، پی پی رہنما

اسلام آباد : پیپلزپارٹی کے رہنماوں نے توپوں کا رخ وزیراعظم کی طرف کرلیا اور کہا کہ فیصلہ وزیراعظم کے حق میں نہیں آنے والا، جھوٹے بیانات اور کاغذات کے معاملے پر نوازشریف جیل جاسکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنما رحمان ملک نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ساری جماعتیں پیچھے رہ جائینگی ۔صرف ایک جماعت آگے جائے گی وہ پیپلز پارٹی ہے، تجسس تھا کہ والیم ٹین میں کیا ہے، وہی دیکھنے آیا ہوں۔

پاناما کیس میں وزیراعظم اوران کے وزیرنااہل ہونگے، لطیف کھوسہ

پیپلزپارٹی کے رہنما سردار لطیف کھوسہ نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاناما کیس میں وزیراعظم اوران کے وزیرنااہل ہونگے ، نوازشریف شہنشاہ بنتے جارہے تھے اور من مانیاں چل رہی تھیں، الیکشن کمیشن میں نوازشریف کیخلاف ہم نے درخواست دی۔

لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی حفاظت ہم نے کی اور آئندہ بھی کریں گے، جو دھمکیاں دے رہے ہیں، سن لیں عوام سپریم کورٹ کی ضامن ہے، شریف خاندان کو بار بار کہا گیا منی ٹریل بتا دیں، شریف خاندان کو وضاحت دینے کیلئے کئی مرتبہ موقع دیا گیا، سسلین مافیا اور گاڈ فادر سے پاکستان کے عوام کو چھٹکارا ملے گا۔

لگتا ہے حکمرانوں کو اپنی تقدیر کے فیصلے کا پتہ لگ چکا ہے ، قمر زمان کائرہ

پیپلز پارٹی کے رہنما قمرزمان کائرہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دھمکیاں دے رہے ہیں، عدالت نے بھی سوچا انہیں کیا کہیں، جو دھمکیاں کل دی گئیں وہ حکمران وقت کو نہیں کہنا چاہیے، لگتا ہے حکمرانوں کو اپنی تقدیر کے فیصلے کا پتہ لگ چکا ہے۔

قمرزمان کائرہ کا کہنا تھا کہ شیخ رشید نے درست کہا عدالت جےآئی ٹی کی حفاظت کیلئے کچھ کرے، ایل ڈی اے پلازہ کو آگ لگی ریکارڈ جل گیا، کسی کو نہیں پوچھا گیا، الزام لگتا ہے ثبوت مانگتے ہیں آگ لگتی ہے اور ریکارڈ جل جاتا ہے۔

پی پی رہنما نے کہا کہ کل ججز نے شریف خاندان کو بتا دیا کہ آپ پر الزامات کیا ہیں، پاناما کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد تاریخ نے اعلیٰ عدلیہ کے کندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری ڈال دی ہے، پہلے بھی عدالتوں کے پاس کئی مواقع آئے لیکن وہ اس طرح استعمال نہیں ہوپائے بلکہ بعض اوقات تو یہ مواقع غلط استعمال ہوئے۔

 

Share

No comments

Sorry, the comment form is closed at this time.