Home / Pakistan / Punjab / فلیٹ میں رہتے ہیں مگر ملکیت کا پتا نہیں

فلیٹ میں رہتے ہیں مگر ملکیت کا پتا نہیں

اسلام آباد : سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ پر ہونے والی دوسری سماعت میں معزز عدالت کا کہنا تھا کہ انتہا تو اس بات پر ہے کہ اقامہ ان دستاویزات پر لیا گیا جس میں اسپلنگ کی بھی غلطی تھی، تعجب کی بات ہے کہ وزیراعظم فلیٹس میں جاتے ہیں، رہتے ہیں اور ملکیت کا علم نہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں پانامہ عمل درآمد کیس میں جے آئی ٹی کی مرتب کردہ رپورٹ پر دوسرے روز بھی سماعت جاری رہی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جسٹس اعجاز کی سربراہی میں کیس کی سماعت کی۔

سماعت کا آغاز نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے دلائل دینے سے ہوا، سماعت شروع ہوئی تو وزیر اعظم کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے اور سپریم کورٹ کے20 اپریل کا حکم نامہ اور جے آئی ٹی کو دئیے گئے 13 سوالات پڑھ کر سنائے، ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے 13 کے بجائے 15سوالات کیے،جے آئی ٹی نے آمدن سے زائد اثاثوں کو بھی سوال بنا لیا۔ وزیر اعظم نہ تو کسی آف شور کمپنی کے مالک ہیں نہ کوئی تنخواہ وصول کی۔

شریف خاندان کے وکیل کا کہنا تھا کہ حکم نامہ اس لیےسنایاکہ بتایاجائےجےآئی ٹی کوکس نوعیت کی تحقیقات سونپی گئیں،عدالت اپنے حکم میں تحقیقات کی سمت کا تعین کر چکی ہے۔ خواجہ حارث نے عدالت کی طرف سے پوچھے گئے 13 سوالات بھی پڑھ کر سنائے، ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے سوالات میں نواز شریف سے متعلق تحائف کا ذکر تھا،سپریم کورٹ نے نواز شریف کیخلاف کسی مقدمے کو دوبارہ کھولنے کا حکم نہیں دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نےلندن فلیٹس،قطری خط،بیئررسرٹیفکیٹ سےمتعلق سوالات پوچھے،سپریم کورٹ نے جو سوالات پوچھے ان کے جواب مانگے گئے تھے۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے استفسار کیا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ کسی پراپرٹی پرتحقیقات جےآئی ٹی کادائرہ کارنہیں تھا؟ جسٹس اعجاز نے ریمارکس دیئے کہ فیصلےمیں لکھا ہے،ایف آئی اے کے پاس کوئی ثبوت ہو تو اس کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

Check Also

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں تیزہواؤں کے ساتھ ہونے والی موسلا دھار بارش سے موسم سہانا

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں تیزہواؤں کے ساتھ ہونے والی موسلا دھار بارش سے موسم سہانا

لاہور: پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں تیزہواؤں کے ساتھ ہونے والی موسلا دھار بارش سے …

Translate »