Home / Blogs / سیاسی انتقام کا نشانہ صرف پیپلز پارٹی کے رہنما ہی کیوں؟

سیاسی انتقام کا نشانہ صرف پیپلز پارٹی کے رہنما ہی کیوں؟

لاہور سے خالد قیوم کی ڈائری
2008کے انتخابات کے بعد سابق صدر آصف علی زراری نے بینظیر بھٹو کے ان تاریخی الفاظ کو دہرایاکہ جمہوریت بہترین انتقام ہے وہ پانچ سال اس سوچ کو لے کر چلے ‘ کسی کیخلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی اور پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت میں کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا جس سے پیپلز پارٹی نے سیاست میں ایک نئی روایت کی بنیاد رکھی۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ وہ مفاہمت کی پالیسی کے تحت مک مکا کی سیاست لے کر چل رہے ہیں ۔ تاہم آصف زرداری نے اس چیلنج کو قبول کیا۔ ماضی میں جھوٹے کیس بنا کر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش ہوتی رہی‘ پاکستان میں انتقامی سیاست کی ایک تاریخ ہے اس مقصد کیلئے ہمیشہ پولیس کو استعمال کیا گیا۔ ایوب دور میں چوہدری ظہور الٰہیپر سائیکل چوری کا مقدمہ بنایا گیا کیونکہ اس وقت گورنر نواب آف کالا باغ چوہدری ظہور الٰہی سے سیاسی طور پر خطرہ محسوس کرتے تھے اس طرح ہر دور میں جھوٹے مقدمات قائم کرکے سیاسی مفاد لئے جاتے رہے ہیں‘ میاں نواز شریف دور میں سیف الرحمان کے احتساب کمیشن نے پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کئے جس کے نتیجے میں سابق صدر آصف زرداری گیارہ سال ناجائز جیل میں رہے اور ان کی زبان بھی کاٹی گئی سیف الرحمان نے جعلی اور بوگس کیس بنائے اور فوٹو اسٹیٹ کاپیاں لگائی گئیں اور آج تک بھی یہ کیس ثابت نہیں ہوسکا‘ آصف زرداری نے بڑی ہمت ‘ جرات اور جوان مردی سے جیل کاٹی اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں جس پر مجید نظامی مرحوم نے انہیں مرد حر قرار دیا۔ پھر ایسا موقع بھی آیا کہ نواز شریف اور سیف الرحمان کو آصف زرداری سے معافی مانگنا پڑی۔پرویز مشرف نے بھی احتساب کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا 2002میں پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ کو ایک بار پھر چرایا گیا اور پیٹریاٹ بنائی گئی۔ اس سے احتساب کی زد میں آنے والے سرور روڈ تھانے سے سیدھے ایوان اقتدار چلے گئے اور انہیں مرضی کی اہم ترین وزارتیں دے دی گئیں‘ پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت میں سابق صدر آصف زرداری اور پیپلز پارٹی کے میڈیا ٹرائل کیا گیا۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ہر معاملے میں رکاوٹ ڈالی اور حکومت کو چلنے نہ دیا گیا ایک منتخب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو گھر بھجوایا گیا ۔ دوسرے وزیر اعظم پرویز اشرف پر بھی کیس بنائے گئے۔ اس وقت دونوں سابق وزرائے اعظم عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہے ہیں‘ مخدوم امین فہیم مقدمات کا سامنا کرتے ہوئے دنیا سے چلے گئے۔
پچھلے چار سال سے صرف سندھ احتساب کی زد میں ہے۔ آصف علی زرداری کے ایک بیان کے رد عمل میں ڈاکٹر عاصم حسین اور شرجیل انعام میمن پر مقدمات بنائے گئے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے واشگاف الفاظ میں واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کا میڈیا ٹرائیل ہورہا ہے اس حوالے سے الزامات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اب 2018ء کا الیکشن نظر آرہاہے ۔ اس سے پہلے یہ ماحول پیدا کیا جارہا ہے۔ جس سے یہ تاثر ملے کہ پیپلز پارٹی واحد پارٹی ہے جس میں دنیا کی تمام خامیاں موجود ہیں اور پاکستان میں کرپشن صرف پیپلز پارٹی کے لیڈروں نے کی ہے باقی تمام جماعتیں اور ان کے لیڈر دودھ کے دھلے ہوئے ہیں ایسے موقع پر اگر وہ عدلیہ نے انصاف کی توقع کریں اور عدلیہ سے انصاف ملے تو اس کو ڈیل کے نام دے دیا گیا۔ یہ وہی عدلیہ ہے اگر وہ آئی جی سندھ کے معاملے کا نوٹس لیتے تو بغلیں بجائی جاتی ہیں۔ یہ دوہرا معیار ہے اس سے ملے اس نہج پر آگیا ہے کہ آج عوام وسوسے میں ہیں کہ کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ کے متحرک رہنماؤں کے خلاف تھوک کے حساب سے کرپشن کے الزامات عائد کئے گئے ان کے خلاف مقدمت درج کرائے گئے ‘ ڈاکٹر عاصم کوتو چھوڑیں صرف شرجیل میمن کی مثال ہی لے لیں ان کے بارے میں یہ خبر چلوائی گئی کہ ان سے دو ارب روپے برآمد ہوئے وہ اب پوچھ رہے ہیں کہ دو ارب روپے کہاں ہیں‘ اس رقم کو سامنے لایا جائے۔ بہر حال وہ بیرون ملک تھے‘ اب وہ واپس آچکے ہیں۔ پہلے شور مچایا جاتا تھا کہ شرجیل میمن ملک سے باہر کیوں ہیں؟ وہ پاکستان آکر مقدمات کا سامنا کیوں نہیں کرتے؟ اب جب وہ پاکستان آکر مقدمات کاسامنا کررہے ہیں تو ان کو پھر تنقید کا نشانہ بنایا جارہاہے۔ شرجیل میمن کے مطابق جب وہ علاج کروانے بیرون ملک گئے تو ان کے خلاف کوئی کیس نہیں تھا‘ ملک سے باہر جانے کے چار ماہ بعد ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا گی اور بیرون ملک جانے کے ڈیڑھ سال بعد ان کے خلاف اکتوبر 2016ء میں ریفرنس ڈائر کیا گیا۔ شرجیل میمن کے نام ای سی ایل میں ڈالے جانے سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایف آئی اے جو وزارت داخلہ کا ماتحت ادارہ ہے اس بات سے بے خبر تھا کہ شرجیل میمن ملک سے باہر ہیں؟ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا اور بیرون ملک جانے کے ڈیڑھ سال بعد ان کے خلاف اکتوبر2016 میں ریفرنس دائر کیا گیا۔ شرجیل میمن کا نام ای سی ایل میں ڈالے جانے سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایف آئی اے جو وزارت داخلہ کا ماتحت ادارہ ہے اس بات سے بے خبر تھا کہ شرجیل میمن ملک سے باہر ہیں؟ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ ان کا نام ای سی ایل میں ان کی عدم موجودگی میں ڈالا گیا تو کیا یہ میرے لئے پیغام نہیں تھا کہ اب میں ملک واپس نہ آؤں؟ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے پالیسی بیان میں کہا تھا کہ ای سی ایل کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لئے استعمال نہیں کیا جائیگا۔ تو پھر شرجیل میمن سے ہونے والے سلوک کو کیا نام دیا جائے۔ شرجیل میمن نے واپسی پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ جس فارمولے کے تحت ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا اسی فارمولے کے تحت نوا زشریف‘ ان کے بیٹوں‘ اسحاق ڈار‘ اور دیگر افرد جن کے خلاف نیب کیسز چل رہے ہیں ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا۔ شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ جب میرا نام بغیر کسی پیشگی نوٹس اور بغیر کسی ریفرنس انکوائری کے ای سی ایل میں ڈالا جاسکتا تو ان تمام افراد کا نام بھی ڈالا جائے جن کے خلاف انکوائریاں چل رہی ہیں اور ان کے خلاف ریفرنس درج ہیں۔ شرجیل میمن کے خلاف ریفرنس میں کہا گیا کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور مختلف میڈیا ایجنسیوں کیلئے کمپنیز کی منظوری دی۔ جن ایڈورٹائزنگ کمپنیوں کو اس ریفرنس میں نامزد کیا گیا وہ اب بھی کام کررہی ہیں اور ان کو وزارت اطلاعات اور سندھ حکومت کو طرف سے اربوں روپے کی کمپنیز دی جارہی ہیں جبکہ شرجیل میمن دو سال سے وزیر بھی نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے۔ کہ نیب ریفرنس کے باوجود یہ کمپنیاں اتنی طاقتور ہیں کہ وہ اب بھی اشتہارات کی مد میں بہت زیادہ بزنس حاصل کررہی ہیں جبکہ ان میں سے کچھ ایڈور ٹائزنگ ایجنسیوں کو دوسرے صوبوں میں بھی کیسز کا سامنا ہے۔ شرجیل میمن اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات اور تمام کیسز کا عدالت میں سامنا کرنا چاہتے ہیں ان کو کریڈٹ دیا جانا چاہئے کہ انہوں نے ملک واپس آکر تمام کیسز کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ یہ تمام کیسز ان کی عدم موجودگی میں بنائے گئے۔ کچھ لوگ ایسا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں جسے لوگوں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا کر ذاتی مسائل کی طرف کی جائے ایسی صورتحال میں ملک ترقی نہیں کرسکتا اس سے قومیں نا امیدی کا شکار ہوجاتی ہیں جس سے ملک انتہا پسندی پیدا ہوتی ہے اور لوگ دہشتگردی کی طرف راغب ہوتے ہیں‘ اگر حکمران ایسی حکمرانی قائم رکھتے ہیں تو یہ رحجان نچلی سطح تک جاتا ہے اور یہ تباہی کا باعث بنتا ہے۔ دانشور ‘ صاحب اقتدار اور صاحب اختیار نئی نسل کو کیا دینے جارہے ہیں‘ احتساب کو سیاسی انتقام کے طور پر استعمال نہ کیا جائے اس سے جمہوریت پر زد پڑسکتی ہے۔ اور اداروں پر انگلی اٹھے گی۔

Check Also

Let’s Say Bye Bye to A Lazy Day and Start a Fresh One!

Let’s Say Bye Bye to A Lazy Day and Start a Fresh One!

The day had just started but you are still in a sleep mode. And whatever …

Translate »