Home / Pakistan / Sindh / سندھ ہائی کورٹ نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کوعہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

سندھ ہائی کورٹ نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کوعہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

کراچی : سندھ ہائی کورٹ نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کوعہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں عہدے پر برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں سندھ ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے آئی جی سندھ کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق دائر کی گئی درخواست پر فیصلہ سنایا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں آئی جی سندھ کی برطرفی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ اے ڈی خواجہ کو آئی جی سندھ کے عہدے پر برقرار رکھا جائے۔
سندھ ہائی کورٹ نے آئی جی سندھ کیس میں 98 صفحات پر مشتمل فیصلے میں عبدالمجید دستی کی تعیناتی کا نوٹی فکیشن کالعدم قرار دیتے ہوئے سندھ کابینہ کی جانب سے فیصلے کی توثیق کوبھی کالعدم قرار دے دیا۔
عدالت کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ٹھوس وجوہات کے بغیرکابینہ افسران کا تبادلہ نہیں کرسکتی، پولیس افسران کے پے درپے تبادلوں سے کارکردگی متاثرہوتی ہے۔
آئی جی سندھ کیس کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئی جی پولیس کی کمانڈ اور آپریشن میں مکمل طور پرخودمختارہیں جبکہ انہیں تعیناتی کے معاملات میں مداخلت سے بھی روکنےکا اختیار ہے۔
عدالت نے تفصیلی فیصلے میں مزید کہا کہ پولیس فورس میں وزرا کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پولیس میں تقرریاں اور تبادلے کرنے حوالے سے رولز بنائے جائیں۔
خیال رہے کہ جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں سندھ ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے رواں سال 30 مئی کو اے ڈی خواجہ کی معطلی کے خلاف دائر کی گئی درخواست پر دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
یاد رہے کہ رواں برس یکم اپریل کو سندھ حکومت نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی خدمات وفاق کےحوالے کرنے کے اسلام آباد کو خط لکھا جس میں آئی سندھ کے عہدے کے لیے عبدالمجید دستی، خادم حسین بھٹی اور غلام قادرتھیبو کے نام تجویز کیے گئے تھے۔
سندھ حکومت کی جانب سے 2 اپریل کو اے ڈی خواجہ کی خدمات وفاق کے حوالے کرتے ہوئے سردار عبدالمجید کو قائم مقام آئی جی سندھ مقرر کیا گیا تھا۔
بعدازاں عدالت نے آئی جی سندھ کی معطلی سے متعلق نوٹی فیکیشن کو معطل کرتے ہوئے اے ڈی خواجہ کو کام جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔
واضح رہے کہ اے ڈی خواجہ کو سندھ حکومت کی جانب سے غلام حیدر جمالی کی برطرفی کے بعد گزشتہ سال مارچ میں آئی سندھ کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔

 

Check Also

کراچی میں 92 فیصد پانی پینے کے قابل نہ ہونے کا انکشاف، پانی میں انسانی فضلہ شامل

کراچی میں 92 فیصد پانی پینے کے قابل نہ ہونے کا انکشاف، پانی میں انسانی فضلہ شامل

کراچی:سندھ ہائی کورٹ میں واٹر کمیشن کیس کی سماعت کے دوران کراچی میں 92 فیصد …

Translate »