Home / International / سعودی عرب میں تنخواہوں میں‌ تاخیر، کمپنیوں پر جرمانے کا فیصلہ

سعودی عرب میں تنخواہوں میں‌ تاخیر، کمپنیوں پر جرمانے کا فیصلہ

جدہ: سعودی حکومت نے تنخواہیں دیر سے دینے والی نجی کمنپیوں پر ہر ملازم کے عوض 3 ہزار ریال جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عرب نیوز کے مطابق سعودی حکومت کی جانب سے تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر کرنے والی نجی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا عمل جاری ہے، اب اس ضمن میں جرمانے کیے جائیں گے اور سب سے پہلے 60 سے زائد ملازمین رکھنے والے ادارے پر سختی کی جائے گی۔

سعودی عرب کی منسٹری آف لیبر اینڈ سوشل ڈیولپمنٹ کے مطابق ملازمین کو تنخواہوں کی لازمی ادائیگی کے لیے یکم اگست سے ایک نیا نظام نافذ کیا جارہا ہے جو کہ 60 سے زائد ملازمین رکھنے والے ادارے پر لاگو ہوگا۔

وزارت کے ترجمان خالد ابو الخیل کے مطابق پروگرام کے 11ویں مرحلے میں 7 ہزار اداروں کو شامل کیا جائے گا جن میں 4 لاکھ 81 ہزار سے زائد ملازمین موجود ہیں۔

منسٹری کی طرف سے ٹوئٹر پر جاری کردہ ایک بیان میں ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ وزارت کی جانب سے تمام پرائیویٹ کمپنیوں کے مالکان پر’’ویج پروٹیکشن سسٹم‘‘ (تنخواہوں کے تحفظ کا نظام) لاگو کیا جارہا ہے تاکہ ملازمین کو تنخواہیں ملیں اور بروقت مل سکیں۔

ترجمان کے مطابق وہ کمپنی انتظامیہ جو بروقت تنخواہ ادا نہیں کرے گی اس پر ہر ملازم کے عوض 3ہزار سعودی ریال کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

اس قانون میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسی کمپنیوں پر جرمانے کے ساتھ ساتھ ان کی خدمات معطل کرنے کی سزا بھی جاسکتی ہے اگر انہوں نے اپنے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق معلومات فراہم کرنے میں تین ماہ سے زائد وقت لگادیا، یا پھر انہوں نے ان ملازمین کی جگہ دوسرے ملازمین مطلوبہ منظوری کے بغیر رکھے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں نجی کمپنیوں کی جانب سے ملازمین کے ساتھ ظلم، ناجائز کٹوتیوں اور کام لینے کے باوجود تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے بے شمار واقعات پیش آرہے ہیں۔

سعودی عرب کی وزارت محنت و سماجی بہبود کی جانب سے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات مسلسل جاری ہیں۔

Check Also

جاپان کے وزیراعظم شنزو ایبے نے پارلیمنٹ کو تحلیل کرڈالا

جاپان کے وزیراعظم شنزو ایبے نے پارلیمنٹ کو تحلیل کرڈالا

ٹوکیو:جاپان کے وزیراعظم شنزو ایبے نے پارلیمنٹ کو تحلیل کردیا جس کے بعد ملک میں …

Translate »