Connect with:

"خبر کی دوڑ میں سب سے آگے"

Translate:
Friday / August 18, 2017 4:06 AM
HomePakistanججز نے جے آئی ٹی پرسوالات اٹھادیے

ججز نے جے آئی ٹی پرسوالات اٹھادیے

ججزنے جے آئی ٹی پرسوالات اٹھادیے

اسلام آباد: پاناما عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ کے حوالے سے کئی سوالات اٹھ گئے۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ الزامات ایسے تھے تحقیقات کروانا پڑیں،چاہتے ہیں عدالت اور قوم کا وقت ضائع نہ ہو۔ جسٹس اعجاز الااحسن کہتے ہیں جے آئی ٹی فائنڈنگ ماننے کے پابند نہیں۔

پانامامعاملے کی تفتیش کیلئے تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے 10 جولائی کو حتمی رپورٹ جمع کروانے کے بعد آج پہلی سماعت میں جے آئی ٹی رپورٹ کے حوالے سے کئی سوالات اٹھ گئے۔

تین رکنی بنچ میں دوران سماعت ججز نے کئی سوالات اٹھا دیے۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ شہبازشریف بطورگواہ جے آئی ٹی میں پیش ہوئے تھے،اُن کا بیان صرف تضاد کی نشاہدہی کیلئے استعمال ہوسکتا ہے ۔شہباز شریف کے بیان کا جائزہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت لیا جاسکتا ہے۔

جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ جے آئی ٹی دستاویزات کے ذرائع کیا ہیں؟ کیا ذرائع جانے بغیردستاویزات کو درست قراردیاجاسکتا ہے؟ دیکھنا ہوگا کہ دستاویزات قانون کے مطابق پاکستان منتقل ہوئیں۔ کیا جے آئی ٹی کی دستاویزات پرعدالت فیصلہ کرسکتی ہے؟ ضرورت پڑنے پر والیم 10 کو بھی کھول کردیکھیں گے۔ ۔ الزامات اس نوعیت کےتھےکہ تحقیقات کروانا پڑیں۔وزیراعظم کی نااہلی کافیصلہ اقلیت کاتھا، جےآئی ٹی اکثریت نےبنائی۔

جسٹس اعجازالااحسن نے ریمارکس دیے کہ جے آئی ٹی کی تمام دستاویزات تو تصدیق شدہ نہیں،کیا جے آئی ٹی نے بتایا ہے کہ فنڈز آئے کہاں سے؟؟جے آئی ٹی کی فائنڈنگ سارا پاکستان جان چکا۔بتائیں ہم رپورٹ پر عمل کیوں کریں؟جے آئی ٹی فائنڈنگ ماننے کے پابند نہیں۔

جسٹس شیخ عظمت سعید کا استفسار تھا کہ ایف زیڈ ای کی دستاویزات، ذرائع سے ملیں یا قانونی معاونت کے تحت؟ درخواست گزار بتائیں ہم جے آئی ٹی سفارشات پر کہاں عمل کرسکتے ہیں ہم اپنے اختیارات کا کس حد تک استعمال کرسکتے ہیں۔

درخواست گزاروں کے دلائل مکمل ہونے کے بعد وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل جاری ہیں ۔کیس کی سماعت کل پھرہوگی۔

Share

No comments

Sorry, the comment form is closed at this time.