Connect with:

"خبر کی دوڑ میں سب سے آگے"

Translate:
Sunday / July 23, 2017 3:37 PM
HomeGossipاب بتاؤ ڈیڈی کون ہے؟

اب بتاؤ ڈیڈی کون ہے؟

کرکٹ میں پاکستان اور بھارت کا ٹاکرا سرحد کے دونوں جانب بسنے والی عوام کے لیے بہت معنی رکھتا ہے۔ روایتی حریفوں کے میچ میں ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ ا س کا ملک جیتے لیکن کھیل پھر کھیل ہے جس میں شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیئے۔بھارتی اداکار رشی کپور کا شمار بھی ان افرد میں ہوتا ہے جو کسی بھی موقع پر تعصب پرستی کا اظہار کرنے سے باز نہیں آتے۔
چیمپئنز ٹرافی کے سیمی فائنل میں انگلینڈ کو ہرا کر پاکستان کے سیمی فائنل میں پہنچنے پرحسد کا اظہارکرتی ٹویٹس کے لیے ان کو منہ کی کھانی پڑی تھی لیکن گزشتہ روز دوسرے سیمی فائنل میں بنگلہ دیش کیخلاف بھارت کی جیت کے بعد انہوں نے پھر سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر متعصبانہ ٹویٹس سے اپنی ذہنیت کا اظہار کردیا۔ پیغامات پڑھ کر کہیں سے نہیں لگتا کہ وہ بھارت کے ایک پڑھے لکھے شہری ہیں۔
بھارت کی فتح کے ساتھ ہی موصوف نے خوش فہمی کی انتہا کرتے ہوئے لکھا کہ ہمیں مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ ہمیشہ کی طرح مخالفین کو تباہ کرنے کی روایت برقرار رکھیں گے۔ بھارتی کرکٹ ٹیم ناقابل شکست ہے۔

اسی پر اکتفا نہیں، ایک اور ٹویٹ میں رشی کپور نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’’پی سی بی، کرکٹ ٹیم بھیجنا پلیز، پہلے تو ہاکی یا کھو کھو ٹیم بھیجی تھی، رشی کپور نے فائنل والے دن ’’فادرز ڈے‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ 18 جون کو باپ کھیل رہا ہے تہمارے ساتھ‘‘۔

رشی کپور کی اس ٹویٹ کا تگڑا جواب انہیں سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید سے ملا۔ شیخ رشید نے اپنی جوابی ٹویٹ میں لکھا کہ ’’جن کے باپ دادوں کو پاکستان نے پال پوس کے بھیجا اب وہ ہمیں درس دیں گے فادرز ڈے کا‘‘۔
ایک اور صارف نے محترم رشی کپورکو یاد دلایا کہ میاں آپ کے اباپاکستان کے علاقے پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ اب بتاؤ کہ ڈیڈی کون ہے؟

ایک اور خاتون صارف نے رشی کپور کو احساس دلانے کی کوشش کرتے ہوئے لکھا ’’آپ جیسے اداکار سےشائستگی اور بردباری کی توقع تھی لیکن لگتا ہے کہ ہماری توقعات کچھ زیادہ ہی ہیں‘‘۔

عمرکا تقاضا کہیں یا کچھ اور، رشی کپوربجائے شرمندہ ہونے کے اپنی ضد پر اڑے رہے۔ جوابی ٹویٹ میں کہا کہ آپ لوگ مرکزی تنازع سے ہٹ کیوں رہے ہیں، میرے لیے کرکٹ بہت زیادہ ہے۔ اس پر بات کریں، اس کی تذلیل نہ کریں۔ مجھے پتا ہے اور میرا ملک جانتا ہے کہ میں کون ہوں۔

اس ہٹ دھرمی کو دیکھتے ہوئے ایک اور صارف نے رشی کپور کو آئینہ دکھانے کی کوشش کرتے ہوئے ٹویٹ کی کہ ’’انکل، جب آپ منہ کھولتے ہیں تو روز ایسے الفاظ ہی نکلتے ہیں یا آج کوئی خصوصی دن ہے؟ ‘‘۔

انکل نے اپنی میں نہ مانوں کی رٹ برقرار رکھتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ’’یہ سب تم سب کو 18 جون کو پتہ چلے گا‘‘۔ انگریزی کا ایک مقولہ استعمال کرتے ہوئے مزید لکھا کہ ’’او سوری، انگریزی ہے تم کیا سمجھو، ایڈیٹس‘‘۔

گھنٹے بعد شاید احساس ہوا کہ اتنی خوش فہمیاں پالنا بھی اچھا نہیں جبھی رشی کپور نے ایک اور ٹویٹ سے اپنے بگڑتے دماغی توازن کا مکمل ثبوت دے ڈالا۔ ٹویٹ میں لکھا کہ ’’ اچھا چھوڑو یار، تم لوگ جیتو اور ہزاروں بار جیتو، صرف دہشتگردی بند کردو یار، مجھے ہار منظورہے۔ ہم امن اور پیار چاہتے ہیں‘‘۔

اس ٹویٹ سے تمام حدیں پارکرتے ہوئے رشی کپور شاید یہ بھول بیٹھے ہیں کہ کھیل کو کھیل کے طور پر ہی لیا جائے تو بہتر ہے، اس طرح کی متعصبانہ ٹویٹس سے وہ اپنا بطور اداکار اچھا امیج تو کھو ہی بیٹھے ہیں لیکن کاش یہ ضرور جان لیں کہ امن اور پیار کا راگ الاپنے سےکچھ نہیں ہوتا ، عملی اقدامات نظر آنےچاہیئں جو کہ بھارت کے بس کی بات نہیں۔
ٹوئٹر صارفین نے بھی انہیں خوب آڑے ہاتھوں لیا۔کسی نے مشورہ دیا کہ پیارے بھارتیوں ، رشی کپور کی طرح نہ بڑے ہونا تو کسی نے آئینہ دکھایا کہ ان ٹویٹس نے حیرت میں ڈال دیا کہ بھارت پڑھا لکھا ہے۔ ایک بھارتی ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ سمجھ نہیں آرہا ایسی ٹویٹس سے رشی کپور کیا ظاہر کرنا چاہ رہے ہیں۔ میں ایک بھارتی ہوں اور مجھے شرم آ رہی ہے۔

Share

No comments

Sorry, the comment form is closed at this time.